اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مذہبی منافرت کے خلاف پاکستان کی قرارداد کی توثیق کر دی

حقوقِ انسانی کے اعلیٰ ادارے نے قرارداد کے حق میں 28 ووٹوں سے حمایت کی، مخالفت میں 12 ووٹ آئے جبکہ سات ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے خلاف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد منظور کرلی گئی۔ قرارداد میں قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا گیا۔ قرآن پاک کی بےحرمتی کے ساتھ ساتھ مذہبی منافرت کی بھی مذمت کی گئی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قرآن پاک کی بےحرمتی مسلمانوں کے عقیدے اور جذبات پر حملہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مذہبی منافرت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی پیش کردہ قرار داد کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

عدالت نے پرویز الٰہی کی رہائی کے حکم پر عملدرآمد کا حکم دے دیا

ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی، وزیراعظم کا بڑا اعلان

یہ قرارداد پاکستان نے 57 ممالک پر مشتمل تنظیم اسلامی تعاون (OIC) کی جانب سے پیش کی تھی۔ قرارداد سویڈن میں قرآن پاک کو جلائے جانے کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے۔ قرآن پاک جلائے جانے کے واقعے نے بین الاقوامی پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کیا تھا، واقعے  نے مسلم دنیا کے اندر سفارتی ہنگامہ برپا کر دیا۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سے مذہبی منافرت پر رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے قوانین پر نظرثانی کریں۔

قرارداد میں زور دیا گیا کہ تمام ممالک مذہبی منافرت پھیلانے سے متعلق قوانین میں شامل کوتاہیوں کی اصلاح کریں، اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کارروائیوں کی روک تھام قوانین میں ترامیم کریں۔

یورپی یونین اور امریکہ نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی 28 ممالک نے حمایت کی گئی، قرارداد کو امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے نمایاں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جن کا موقف ہے کہ یہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے قائم کردہ اصولوں کے منافی ہے۔ جبکہ سات ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

تبصرہ

تجزیہ کاروں کے مطابق قرارداد سے متعلق ووٹنگ کا نتیجہ مغربی ممالک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ او آئی سی اس وقت کونسل کے اندر بہت نمایاں اثرورسوخ رکھتی ہے۔

امریکا کا موقف

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکہ کی مستقل نمائندہ مشیل ٹیلر نے اس نتیجے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ، اور کہا کہ امریکا کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات پر خاطر خواہ غور نہیں کیا گیا۔

مشیل ٹیلر کا کہنا تھا کہ "مجھے پختہ یقین ہے کہ زیادہ وقت اور کھلی بحث کے ساتھ، ہم ایک باہمی متفقہ حل تک پہنچ سکتے تھے۔” انہوں نے کہا۔

متعلقہ تحاریر