کیا مولانا محمد خان شیرانی فضل الرحمن کے لیے خطرہ ہیں؟

جے یو آئی پاکستان کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے لیے فوری چیلنج بنتے دکھائی نہیں دے رہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) سے بے دخل کیے جانے والے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے ‘جے یو آئی پاکستان’ کے نام سے نئی جماعت بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ لیکن بظاہر باغی دھڑا مولانا فضل الرحمن کے لیے چیلنج بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔

مولانا شیرانی کو شکست

مولانا محمد خان شیرانی بلوچستان میں جمعیت پربلا شرکت غیرے طویل عرصے تک حکمرانی کرتے رہے مگر 2019 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ پارٹی انتخابات میں بلوچستان کے صوبائی صدر منتخب نہ ہوسکے اوران کے ایک قریبی ساتھی مولانا واسع صوبائی صدربن گئے۔

نکالے جانے والے رہنما کتنے بااثر

مولانا محمد خان شیرانی بلوچستان کے صوبائی صدر رہنے کے علاوہ سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل بھی رہے ہیں۔ حافظ حسین احمد کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے جو پارٹی کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔ گل نصیب سابق سینیٹراورجے یوآئی خیبرپختونخواہ کے صوبائی صدررہ چکے ہیں۔ مولانا شجاع الملک سابق رکن قومی اسمبلی اورپارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے لیے کتنا بڑا چیلنج؟

مولانا محمد خان شیرانی کی جانب سے نئی جماعت کے اعلان پر بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ رہنما عمر کے جس حصے میں ہیں وہ کوئی بڑی تحریک نہیں چلاسکتے۔ جبکہ بلوچستان میں بھی پارٹی پر مولانا کا اثر ورسوخ اور گرفت پہلے جتنی مضبوط نہیں رہی جس کے باعث انہیں صوبائی صدارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

جے یو آئی (پ) بمقابلہ جے یو آئی (ف)

مولانا محمد خان شیرانی اور دیگر نکالے گئے رہنماؤں کے اسلام آباد میں اجلاس نے سیاسی سطح پرہلچل پیدا کی ہے اور جے یو آئی (ف) کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ جے یو آئی پاکستان کی صورت میں وہ بھی مولانا فضل الرحمن کے لیے چیلنج ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمن جس طرح پارٹی پر گرفت مضبوط کیے ہوئے ہیں اور پی ڈی ایم کی قیادت کررہے ہیں جے یو آئی پاکستان کے رہنما ان کے لیے کوئی فوری چیلنج بنتے دکھائی نہیں دے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ڈی ایم کے لیے بُرا دن

بلوچستان میں جے یو آئی نظریاتی نے انتخابات میں جے یوآئی (ف) کو نقصان پہنچایا اوروہ جمعیت کے ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنی جس کے باعث نظریاتی کی قیادت کو راضی کرنا پڑا۔ اسی طرح آئندہ انتخابی مرحلہ آنے پر پاکستان گروپ کو صوبے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مولانا بخوبی جانتے ہیں کہ پارٹی کو ووٹ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے ہی ملتے ہیں۔

مولانا محمد خان شیرانی اب بھی بلوچستان میں اثرورسوخ رکھتے ہیں مگر بڑھتی ہوئی عمر کے سبب اب وہ پہلے جیسے متحرک نہیں ہوسکتے۔ دیگر برطرف رہنما اتنے بااثر نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو بڑا چیلنج دے سکیں۔ تاہم مولانا فضل الرحمن پر لگائے گئے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ان پر جے یو آئی کے حلقوں میں دبے لفظوں میں بات بھی ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بھائی کو سینیٹر اوربیٹے کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بنایا جبکہ خاندان کی چند خواتین بھی پارٹی عہدوں پر آگئی ہیں۔ جس پر پارٹی میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور یہ چیز آئندہ انتخاب میں ووٹرز کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

جے یو آئی میں دھڑے بندی کی تاریخ

مولانا عبداللہ درخواستی جے یو آئی کے شریک بانی تھے لیکن انہوں نے جے یوآئی کے بانی مولانا مفتی محمود کی حیات میں ہی پارٹی میں ایک نیا دھڑا تشکیل دیا تھا۔

سنہ 1980 میں جے یوآئی کے بانی مفتی محمود احمد کی وفات کے بعد مولانا سمیع الحق نے جے یو آئی (س) کے نام سے اپنا دھڑا تشکیل دیا تھا۔

جبکہ 2007 میں پارٹی میں جے یو آئی نظریاتی کی تشکیل سے انتخابات میں جے یو آئی (ف) کو نقصان پہنچا تھا۔ اس دھڑے کی تشکیل سے مولانا فضل الرحمن نظریاتی گروہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے