کالعدم تنظیم نے کسی سفیر کی بےدخلی کا مطالبہ نہیں کیا، اوریا مقبول کا انکشاف
اوریا مقبول جان نے دنیا نیوز کے پروگرام میں بتایا کہ کالعدم تنظیم سعد رضوی اور کارکنوں کی رہائی چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کچھ دیر قبل نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کالعدم تنظیم کے مظاہرے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی وجہ سے انہوں نے پنجاب میں دو مہینے کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کے عہدیداران نے اُن سے ملاقات میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ موجودہ حالات میں پورا کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وزیراعظم کا کالعدم تحریک کے مطالبات نہ ماننے کا فیصلہ
پنجاب میں دو ماہ کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ
دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں میزبان اجمل جامی نے معروف تجزیہ کار اوریا مقبول جان کو ٹیلیفون کال پر تجزیہ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔
اوریا مقبول جان نے پروگرام میں بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ کالعدم تنظیم نے فرانسیسی سفیر کو ملک سے بےدخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اوریا مقبول جان حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ تنظیم کی جانب سے صرف تین مطالبات کیے گئے ہیں۔
پہلا مطالبہ یہ ہے کہ سربراہ سعد رضوی کو رہا کیا جائے، دوسرا مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے اور تنظیم چاہتی ہے کہ اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالا جائے۔
یہاں بڑے اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے کیے گئے مطالبے کو پورا نہیں کیا جا سکتا اور اس کے رد عمل سے نمٹنے کے لیے رینجرز تک کو بلا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اوریا مقبول جان جو کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان رابطے کی کوشش کر رہے تھے، ان کا موقف ہی بالکل مختلف ہے۔
قابل غور بات ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان محاذ آرائی چاہتے ہیں؟ شیخ رشید نے تو کالعدم جماعت کے حصے میں ایسا مطالبہ ڈال دیا جو کہ اوریا مقبول جان کے وہ خود نہیں جانتی۔
یا اس سارے معاملے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ حکومت کو کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی کرنا مقصود ہے اور اس کے لیے وہ بڑے عرصے سے موقع کی تلاش میں تھی۔
آج وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس ضمن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی اور ریاست کے خلاف جو کام کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
فواد چوہدری کی پریس کانفرنس شیخ رشید کی نیوز کانفرنس سے کچھ دیر قبل ہوئی تھی، اوریا مقبول جان کے بیان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پہلے سے ہی کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی کی ٹھان چکی تھی۔









