حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی میں جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑگیا

کالعدم ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر وعدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ دےدیا

حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑگیا۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر وعدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے جنگ بندی ختم کرنے کا عندیہ دےد یا۔

ترجمان کالعدم  تحریک طالبان پاکستان محمد خراسانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  25اکتوبر 2021 کو افغان حکومت کی زیرنگرانی تحریک  طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.

یہ بھی پڑھیے

حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی میں فائر بندی پر اتفاق

سیکورٹی فورسز کی کارروائی، باجوڑ میں تباہی کا بہت بڑا منصوبہ ناکام

محمد خراسانی کے مطابق فریقین کے درمیان پہلی نشست میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ فریقین کے درمیان افغان حکومت ثالث کا کردار ادا کرے گی۔ فریقین  پانچ پانچ رکنی کمیٹیاں تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹیاں ثالث کی نگرانی میں آئندہ کا لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر بات چیت کریں گی۔

 محمد خراسانی کے مطابق فریقین میں طے پایا تھا کہ یکم نومبر تا 30نومبر 2021 سیز فائر ہوگی۔ یکم نومبر کو 102قیدیوں کو افغان حکومت کے ذریعے  کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے کیا جائے گا اور اسی روز فریقین متفقہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

محمد خراسانی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے یکم نومبر کے بجائے 9نومبر کو یکطرفہ اعلامیہ جاری کیا۔102 قیدیوں کو بھی اب تک رہا نہیں کیا جاسکا۔کالعدم ٹی ٹی پی کی کمیٹی 31اکتوبر کو مقررہ مقام پر موجود تھی لیکن حکومتی کمیٹی 9نومبر کے بعد سے آج تک نہیں آئی۔

محمد خراسانی نے سیکیورٹی  فورسز پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے قبائلی اضلاع میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر چھاپوں اور  اپنے ساتھیوں ہلاکت کا شکوہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ فریقین نے اتفاق رائے سے افغان حکومت کو ثالث مقرر کیا تھا لیکن وزیراطلاعات فواد چوہدری نے افغان حکومت کو سہولت کار کانام دے یا۔ترجمان کالعدم ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جنگ بندی کوآگے بڑھانا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں برس الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حکومت کے کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات جاری ہیں جس کے بعد 9 نومبر کو حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر