گورنر سندھ نے مستحقین کیلیے عطیہ کردہ موٹرسائیکلیں صحافیوں میں بانٹ دیں

موٹرسائیکلیں میمن لیڈرشپ فورم کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں،15صحافیوں کی فہرست میں شامل 7 صحافیوں نے موٹرسائیکل وصول کرنے سے انکا رکردیا

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خیراتی ادارے کی جانب سے مستحقین کیلیے عطیہ کی گئی موٹرسائیکلیں من پسند صحافیوں میں بانٹ دیں۔ سینئر صحافی فیض اللہ خان نے گورنر ہاؤ س سے جاری کردہ فہرست سوشل میڈیا پر شیئر کردیں۔

گورنر سندھ کی جانب سے مستفید ہونے والے 15 صحافیوں کی فہرست میں شامل 7 صحافیوں نے موٹرسائیکل وصول کرنے سے انکا رکردیا۔

یہ بھی پڑھیے

گورنر سندھ نے غیرقانونی عمارتوں کی ریگولائزیشن کا آرڈیننس مسترد کردیا

جرنلسٹس پروٹیکشن بل پر گورنر سندھ کے بظاہر جائز اعتراضات

اے آر وائی سے وابستہ سینئر صحافی فیض اللہ خان نے اپنے ٹوئٹ میں  گورنر ہاؤس سے جاری کردہ صحافیوں کی فہرست اور موٹرسائیکلوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گورنر صاحب کا شکریہ کہ انہوں صحافیوں میں موٹر سائیکلیں بانٹیں جنہوں نے لیں انہیں مبارکباد اور جس فلاحی ادارے نے عمران اسماعیل کے کہنے پہ کیا اسکا اور اسے چندے صدقے دینے والوں کا دو بار شکریہ۔

فیض اللہ خان کی  پوسٹ پر تبصرہ  کرتے ہوئے ایکسپریس نیوز کراچی کے بیورو چیف فیصل حسین نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ”  فیض بھائی گورنر ہاؤس نے بہت زیادتی کی ہے،  میری اس  فہرست  میں شامل کئی صحافیوں سے بات ہوئی ہے ،  ان کے مطابق گورنر ہاؤس کے پی آر او نے یہ پیشکش ضرور کی تھی مگر انہوں نے واضح لفظوں میں منع کردیا تھا اس کے باوجود ان کا نام اس فہرست  میں شامل کیا گیا“۔

فہرست میں موجود صحافیوں  وقاص باقر اور سنجے سادھوانی نے بھی گورنر ہاؤس سے موٹرسائیکل وصول کرنے کی تردید کردی۔انہوں نے فیض اللہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ  ”نا میں نے ایسی کوئی بائیک لی ہے نا میں نے ایسی کسی بائیک کے لئے کسی کو کوئی درخواست دی ہے نا کسی کو کہا ہے ۔ یہ لسٹ آپ کو کس نے فراہم کی ہے ؟ کون آپ کو کن مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے ؟ اس قسم غلط معلومات یا نام شیئر آپ انتہائی بے ہودہ الزام لگا رہے ہیں“۔

روزنامہ دنیا سے وابستہ سینئر صحافی عبدالجبار ناصر نے لکھا کہ فہرست میں شامل بعض تو واقعی سفید پوش اور ضرورت مند ہیں مگر کچھ کے نام دیکھ کر پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنےکی تحریک چلا کر اس کے نام پر براجمان عمران اسماعیل کے انصاف پر افسوس ہوا۔

سینئر صحافی عفت حسن رضوی نے فیض اللہ خان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ”ایسی لسٹیں ماضی میں بھی جاری ہوتی رہی ہیں جن میں پلاٹ، پیسے، ائیر ٹکٹ لینے والے صحافیوں کے نام/اکاؤنٹ نمبر تھے پھر دینے والے اور لینے والوں دونوں نے لیک لسٹ کو جھوٹ اور صحافت کے خلاف پراپگنڈا قرار دیا۔ موٹر سائیکل لسٹ کے حوالے سے آپ کی تحقیق کیا کہتی ہے فیض اللہ صاحب؟“۔

اس پر سنجے سادھوانی نے ایک مرتبہ پھر موٹرسائیکل وصول کرنے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے لکھا کہ  ”نا میں نے یہ بائیک لی ہے نا درخواست دی ہے ، نا کسی سے کبھی کوئی مراعات مانگی ہیں۔ نہ گورنر ہاؤس میری بیٹ ہے، بلاوجہ نام ڈال کر بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ ایسے بھونڈے لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے“۔

سنجے سادھوانی کے جواب پر  عفت حسن رضوی نے سوال اٹھا یا کہ”یعنی صحافیوں کو بدنام کرنے کی یہ کوشش گورنر سندھ ہاوس کی جانب کی جارہی ہے؟“۔

عرب نیوز سے وابستہ سینئر صحافی نعمت خان نے عفت رضوی کی پوسٹ پر تبصرے میں سنجے سادھوانی کو مخاطب  کرتے ہوئے لکھا کہ یہ فہرست گورنر ہاؤس سے فیض اللہ کو ملی ہے اس لسٹ میں شامل بعض صحافیوں نے باقاعدہ آج تقریب میں بائیکس کی چابیاں بھی وصول کی ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اس کا پتہ چلائیں کہ آپ کو بدنام کرنے کے لیے کس نے آپ کا نام اس فہرست میں شامل کیا ہے۔

سنجے سادھوانی نے گورنر ہاؤس کے ترجمان سے کئی گئی واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ گورنر ہاؤس کے ترجمان ہیں جو اس قسم کے پیپر کی تردید کر رہے ہیں ۔ فیض اللہ خان کس کے ہاتھوں استعمال ہوکر ہمیں بدنام کر رہا ہے یہ بتانا ہوگا ۔ کیونکہ نہ ہم نے بائیک لی ہے نہ درخواست دی ہے نہ شوق ہے ۔ گورنر ہاؤس تردید کر رہا ہے، آپ کو فہرست کس نے دی ؟ کون آپ کو ہمارے خلاف استعمال کر رہا ہے؟

اس پر جواب دیتے ہوئے فیض اللہ خان نے   لکھا کہ  ”سنجے مجھے تمہیں بدنام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، نام میں نے نہیں ڈالا فہرست گورنر ہاؤس سے ہی میں نے حاصل کی سورس نہیں بتاسکتا بقیہ انکوائری تو بہت اچھی بات ہے کہ تمہارا وقاص کا نام اس فہرست میں کس نے ڈالا پتہ چل جائیگا باقی آج کی تقریب میں 7 صحافیوں نے بائیکس کی چابیاں وصول کی ہیں“۔

بعدازاں فیض اللہ خان نے اپنے وضاحتی ٹوئٹ میں وقاص اور سنجے سادھوانی سمیت موٹرسائیکل وصول نہ کرنے والے  7 صحافیوں سے معذرت بھی کی۔

سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے صدر رضوان بھٹی نے وضاحت کی کہ گورنر ہاؤس سے تقسیم کی جانے والی موٹرسائیکلیں میمن لیڈرشپ فورم نے فراہم کی تھیں۔

متعلقہ تحاریر