پی ٹی آئی حکومت کا فوجداری قوانین میں 700 ترامیم کا بل لانے کا فیصلہ
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے مجوزہ بل عوامی مفاد سے وابستہ ہے لہٰذا اپوزیشن سے بھی تعاون کے لیے بات کی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے فوجداری قوانین میں 700 ترامیم پر مشتمل بل قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے فوجداری قوانین میں 700 ترامیم پر مشتمل اہم اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نئے قوانین میں ایف آئی آر، تفتیش، چالان اور الیکٹرانک شواہد کے علاوہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ترامیم بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
توہین مذہب کے الزام پر ازخود سزا دینا شرعاً درست نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
میڈیا ورکرز کے خلاف حکومتی کارروائیاں، صحافیوں کا سینیٹ سے واک آؤٹ
وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری بھی ملاقات میں موجود تھیں۔
اس موقع پر فوجداری قوانین میں اصلاحات، زیر التو قانون سازی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے اسپیکر قومی اسمبلی کو فوجداری قوانین میں اصلاحات کا ترمیمی بل کا نوٹس پیش کیا۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل 700 سے زائد ترامیم پر مشتعمل ہے۔ نئے قوانین میں ایف آئی آر، تفتیش، چالان اور الیکٹرانک شواہد کے علاوہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ترامیم بھی شامل ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش مسائل کو موثر قانون سازی اور اس کے نفاذ سےحل کیا جا سکتا ہے۔ وجداری قوانین میں مجوزہ ترامیم جرائم کی روک تھام اور خاتمہ میں اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہے جس سے عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی سیکرٹیریٹ کو ہدایت جاری کر دی ہیں کہ بل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ بل عوامی مفاد سے وابستہ ہے لہٰذا اپوزیشن سے بھی تعاون کے لیے بات کی جائے گی۔









