وزیراعظم کا جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم لانے کا اعلان
عمران خان کا کہنا ہے ہماری وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لیے 500 ارب روپے مزید خرچ کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم جلد قومی اسمبلی میں لانے کا اعلان کردیا۔ کہتے ہیں جنوبی پنجاب کے ترقی کے لیے 500 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے جو کام 74 سالوں میں نہیں ہوئے وہ ایک سال میں کرنا ہوں گے ، عوام کی تمام خواہشیں اس بجٹ اور آئندہ کے بجٹ میں پوری کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
پشاور کی جامع مسجد میں دھماکہ ، جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہوگئی
محکمہ ریلوے کی غفلت ، لینس ڈاﺅن برج خستہ حالی کا شکار
عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لیے 500 ارب روپے مزید خرچ کریں گے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی خواہشیں یا اس بجٹ میں پوری ہوں گی یا اگلے بجٹ میں پوری ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دیر سے وعدے کرتی رہی ہیں کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائیں گے۔ ہم جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی ترمیم اسمبلی میں پیش کریں گے اب سب سامنے آجائے گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہماری حمایت کرتی ہے یا نہیں۔
کسانوں کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر لوگوں کو گزارہ کاشت کاری پر ہوتا ہے۔ جتنا کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہماری حکومت سے قبل کبھی اتنا پیسہ کسانوں کے پاس نہیں آیا۔ مکئی کی فصل پر ہر کسان کو فی ایکڑ 40 ہزار سے 50 ہزار روپے فائدہ ہوا ہے۔ گندم کی قیمت بڑھانے سے ہر کسان کو ایک ایکٹر پر 25 سے 30 روپے فائدہ ہوا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کسان کو فائدہ پہچانے کے لیے کپاس کی قیمت دگنی کردی گئی ہے۔ دنیا بھر میں کھاد کی قلت ہو گئی ہے مگر ہماری حکومت نے چین سے ایک لاکھ ٹن کھاد منگوائی ہے۔ جو ایک ہفتے میں پاکستان پہنچ جائے گی، کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ دنیا کے مقابلے میں 5 فیصد کم قیمت پر کسان کو کھاد دے رہے ہیں۔ 40 سالوں میں سب سے زیادہ مہنگائی آئی ہے۔ آج جتنی مہنگائی ہے پیپلز پارٹی کے دور سے کم ہے۔ سو سالوں میں ایسا بحران آتا ہے کورونا ساری دنیا میں پھیل گیا۔
ہم نے پالیسی مرتب کی ، کھاد کی فیکٹریوں کو زیادہ گیس دی تاکہ کھاد کی فیکٹریاں بند نہ ہوں ، جتنا پیسہ کسانوں کے پاس ہمارے دور حکومت میں آیا کسی دور حکومت میں نہیں آیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر ہماری حکومت نے اپنی پالیسیز سے اپنے لوگوں کو بھی بچایا اور اپنی معیشت کو بھی بچایا۔ اس کے بعد ساری دنیا میں مہنگائی کا سمندر آگیا ۔ ملک میں ہمیں اقتدار ملا تو چوروں کا ٹولہ ملک کا دیوالیہ نکال چکا تھا۔
مہنگائی پر مزید بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا کے بعد امریکا میں سب سے زیادہ مہنگائی آئی ہے، برطانیہ میں 30 سال بعد اور جرمنی میں 26 سال کے بعد مہنگائی آئی ہے۔ اس مہنگائی کے باوجود ، پیپلز پارٹی کا 2008 سے 2013 تک جو دور تھا اُس میں اِس دور سے زیادہ مہنگائی تھی۔ اس سخت مہنگائی کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت نے کوشش کی کہ ہم عوام پر کم بوجھ ڈالیں۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔ جس کے بعد ہم نے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی اور بجلی کے فی یونٹ میں 5 روپے کمی کی۔









