24 گھنٹے کام کرنے والی عدالتوں نے 3 ماہ کی چھٹیوں کی تیاری کرلی

موسم گرما کی سہ ماہی تعطیلات کے حوالے سے سرکلر جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ میں موسم گرما کی 13 جون سے 13 ستمبر تک تین ماہ کی تعطیلات ہوں گی۔

کیا سپریم کورٹ اور یہ عدالتیں مقررہ اوقات کار کے بعد بھی کام کرسکتی ہی ؟ اور کیا عدلیہ میں طویل تعطیلات کا جواز بنتا ہے جبکہ لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔

بقول شاعر "آج ہم فیصلوں کو کیوں ٹالیں

               کل   نیا   دن   مقدمات  نئے”

اس معاملے پر ماضی میں بھی بات ہوتی رہی ہے مگر حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے کا اتوار کو تعطیل کے روز سوموٹو نوٹس لے کر سماعت کرنا اور پھر نصف شب کو عدالتیں کھولنے پر بحث ومباحثہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریاستی ادارے یا اتحادی؟ وزیراعظم شہباز شریف کیلیے اہم کون؟

شہباز شریف کا نریندر مودی کے نام خط، تنازعہ کشمیر کو مسئلہ کشمیر لکھ دیا

یہ 24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے اس کی پرواہ نہیں، آئین کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے، یہ 24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

عدالت عالیہ میں موسم گرما کی سہ ماہی تعطیلات کا آغاز جون سے

دوسری جانب سپریم کورٹ میں  موسم گرما کی سہ ماہی تعطیلات کے حوالے سے سرکلر جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ میں موسم گرما کی 13 جون سے 13 ستمبر تک تین ماہ کی تعطیلات ہوں گی۔

عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں موسم سرما کی تعطیلات بھی ہوتی ہیں۔

موسم سرما میں دو ہفتوں کی تعطیلات

سپریم کورٹ میں گزشتہ برس  18 دسمبر سے  2جنوری تک دو ہفتوں کی تعطیلات ہوئی تھیں۔

عدلتوں میں چھ ماہ کی تعطیلات کا کیا جواز ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اہم دنوں کے حوالے سے  جاری کی گئی تعطیلات کی فہرست کے مطابق رواں برس 13 تعطیلات ہوں گی۔

اس طرح اعلیٰ عدلیہ میں اہم قومی دنوں اور تہواروں میں 13 چھٹیاں،موسم سرما میں 16 اور موسم گرما کی تین ماہ کی تعطیلات کے علاوہ اتوار کی سال میں 52 چھٹیاں اور جج صاحبان کو ملنے والی معمول کی چھٹیاں ملا کر تعطیلات کی مجموعی تعداد چھ ماہ سے زائد بنتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد پچاس ہزار سے زائد

جسٹس عمر عطا بندیال کا رواں برس ماہ فروری میں بطور چیف جسٹس حلف برداری کے موقع پر کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی دس ججز نے سترہ ماہ تک سماعت کی۔ اس عرصے میں کیسز کا بوجھ دسمبر 2019 کے تقریباً 42 ہزار سے بڑھ کر اپریل 2021 میں 50 ہزار پہنچ گیا۔

سپریم کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے وقت  یعنی جنوری 2019 میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 40،481 تھی۔

دسمبر 2019 میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہوئے تو زیر التوا مقدمات میں پانچ ہزار کا اضافہ ہو چکا تھا۔ تاہم انہوں نے کریمنل کیسز کافی حد تک نمٹا دیئے تھے۔

چیف جسٹس گلزار نے 20 دسمبر، 2019  کو حلف لیا تو اُس وقت زیر التوا مقدمات کی تعداد 45،275 تھی۔

2020 اور 2021 میں کرونا وبا اور جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں  لارجر بینچ کے باعث معمول کے کیسز التوا کا شکار ہوئے، جس کے بعد جنوری 2022 تک عدالتی ریکارڈ کے مطابق زیر التوا مقدمات 53 ہزار سے تجاوز کر کے 53،575 تک پہنچ گئے جو عدالت عظمیٰ کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے۔

زیر التوا مقدمات اور عوامی حلقوں کا سوال

کئی عوامی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بڑی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہوں تو کیا ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں طویل تعطیلات ہونی چاہئیں۔؟

پاکستان میں چھوٹی بڑی عدالتیں گرمیوں کی ڈھائی سے تین ماہ کی تعطیلات کے باعث بند رہتی ہیں۔ ان عدالتوں سے منسلک سرکاری ملازمین کو حاصل یہ ’سہولت‘ ملک کے کسی دوسرے سرکاری ادارے کو حاصل نہیں۔

پاکستان میں جہاں مقدمات کی بھرمار اور سماعت کی طویل تاریخیں سائلین کے لئے زحمت کا باعث ہیں وہاں عدالتی تعطیلات بھی ان کی داد رسی اور حصول انصاف میں رکاوٹ ہیں۔

تعطیلات کے دوران ڈیوٹی جیز موجود ہوتے ہیں

ماہرین قانون کے  مطابق تعطیلات کے دوران انتہائی ضروری نوعیت کے کیسز کی سماعت کےلئے ڈیوٹی ججز موجود ہوتے ہیں۔

عدالتوں میں تعطیلات کا آغاز کب ہوا۔؟

تاریخ دان اور ماہرین قانون کے مطابق برصغیر میں انگیز افسروں نے موسم گرما کی شدت سے بچنے کے لئے تعطیلات کا آغاز کیا تھا۔موسم گرما کی طویل چھٹیوں میں انگریز ججز برطانیہ چلے جاتے تھے اور یا پھر یہ وقت وہ کسی تفریحی مقام پر گزارتے تھے۔

عدلیہ میں چھٹیوں کی روایت صرف برصغیر میں ہے

تقسیم برصغیر اور قیام پاکستان کے بعد بھی عدلیہ میں موسم گرما اور سرما کی تعطیلات کی روایات برقرار ہیں۔ہوں اب بھی پاکستان اور بھارت میں عدلیہ انگریزوں کی روایت پر عمل پیرا ہے جبکہ اس کے برعکس برطانیہ میں  عام سرکاری تعطیلات کے علاوہ چھٹیوں کا کوئی تصور موجود نہیں اور نہ ہی یورپ میں ایسا کوئی تصور موجود ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق امریکہ کی عدلیہ میں بھی اس طرح کی کوئی روایت نہیں ہے۔یوں برصغیر یہ تعطیلات کے حوالے سے منفرد روایات رکھتا ہے۔

مقدمات کی بھرمار،24 گھنٹے عدالتیں لگنی چاہیے

عدلیہ میں تعطیلات کے حوالے سے بعض ماہرین قانون کا موقف ہے کہ جج صاحبان بہت دباؤ میں کام کرتے ہیں اس لئے انہیں اضافی تعطیلات کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کچھ ماہرین قانون اس سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد اور سائلین کی مشکلات کے پیش نظر اب عدالتوں کو 24 گھنٹے کام کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے جج صاحبان کی تعداد بڑھا کر شام کو بھی عدالتیں لگائی جانی چائیں۔

ماہرین قانون کہتے ہیں کہ اگر عدالتی تعطیلات ضروری ہوں تو اس بات کا احتمال کیا جائے  کہ آدھی عدالت ہرصورت دستیاب ہوں۔

پاکستان میں اٹھارہ ہزار مقدمات زیر التوا

وزارتِ قانون کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2019کے دوران کُل زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ تھی۔

جن میں ملک کی پانچ ہائی کورٹس میں زیر سماعت مقدمات تین لاکھ 45 ہزار سے زائد تھے جبکہ ان مقدمات کے مقابلے میں ان پانچوں ہائی کورٹس میں ججز کی کل تعداد 111 تھی۔

دستوری بحران, عدالتوں کو رات میں کھلے رکھنے کا پہلا واقعہ تھا.؟

کیا حالیہ دستوری بحران کے دوران عدالتیں رات کو کھولنا پاکستان کی تاریخ کا پہلا ایسا واقعہ تھا۔؟ تو یہ تاثر آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں۔ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جب عدالتوں نے تعطیل کے دن بھی کام کیا۔

سپریم کورٹ انصاف کی فراہمی کے لئے وقت اور جگہ کی پابند نہیں

قانون  کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان  آئینی ذمہ داری کے نفاذ کے لیے کسی جگہ یا مخصوص وقت کے پابند نہیں کیونکہ اعلیٰ عدلیہ آئین کی محافظ ہے۔

آئین میں متعین شہریوں کےبنیادی حقوق  کی حفاظت عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔اس لئے عدالتیں آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے وقت اور مخصوص جگہ کی پابند نہیں۔ اگرکسی شخص کی آزادی یا زندگی خطرے ہو یا ملک میں کوئی آئینی بحران سر اٹھا رہا ہو جس سے کاروبار مملکت معطل ہو سکتا ہو تو چاہے عدالت کی عمارت کو تالے بھی لگے ہوں، عدالت اپنا کام کر سکتی ہے۔

ایسا صرف مخصوص معاملات میں ہو سکتا ہے

لیکن ایسا صرف مخصوص معاملات یا حالات میں ہی ہو سکتا ہے جبکہ عام حالات میں نظام انصاف کے اوقات کار طے شدہ ہوتے ہیں۔

شہری توقع رکھتے ہیں کہ بنیادی حقوق کے تحفظ ، ان کی دہلیز تک انصاف کی آسان اور فوری فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے گی تاکہ لاکھوں زیر التوا مقدمات کا خاتمہ ہو سکے اور شہریوں کو مقدمات کی طویل سماعتوں سے نجات ملے۔

متعلقہ تحاریر