عدلیہ مخالف اشتہار، جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان آئی ایچ سی طلب

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ "میر شکیل الرحمان کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کو کہیں۔ کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ نے ایک ایسے معاملے پر اشتہار چھاپ دیا جو اس وقت زیر سماعت ہے؟"

اسلام آباد ہائی کورٹ جنگ اور جیو میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو انگریزی روزنامہ "دی نیوز انٹرنیشنل” میں گزشتہ دو دنوں میں شائع ہونے والے عدلیہ مخالف اشتہارات پر طلب کر لیا۔

دی نیوز انٹرنیشنل میں چھپنے والے اشتہار کو نوٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے لیا تھا۔ عدالت نے میر شکیل الرحمان اور اخبار کے ایڈیٹر عامر غوری کو معافی کا حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

زیر بحث اشتہارات اخبار کے 23 اور 24 مئی کے ایڈیشن میں چھپے تھے۔

میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق مذکورہ اشتہارات بیرسٹر فہد ملک کے خاندان کی طرف سے سپانسر کیے گئے تھے، جنہیں 2016 میں اسلام آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی نے نیب کے پر کاٹ دیئے، ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

آئی ایم ایف کی شرائط اور عمران خان کی ڈیڈ لائن کے بعد اتحادی حکومت مشکل میں

اشتہار میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر (سی جے پی) عمر عطا بندیال سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قاتل نے "اس کیس کے جج کے ڈیل کرلی ہے۔”

Islamabad High Court Mir Shakeel-ur-Rehman

اہل خانہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس مقدمے کو کسی غیرجانبدار جج کی عدالت میں منتقل کیا جائے۔

انہوں نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کے خاتمے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں زیر التوا اپیل کی سماعت کے لیے ایک بڑا بینچ تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اہل خانہ نے اس بات کی بھی یقین مانگی ہے کہ ملزم نے جس علاقے میں جرم کیا تھا اس کو علاقہ بدر نہ ہونے دیا جائے ، اور "انصاف کی مساوی فراہمی” کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ جج بھی تعینات کیا جائے۔

آج کے ایڈیشن میں اخبار نے "معافی نامہ جاری” کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ عملے نے اشتہار کے کنٹیکس کو نظر انداز کردیا تھا کیونکہ یہ مرحوم بیرسٹر کے خاندان سے آیا تھا اور اسے ایک معروف اشتہاری ایجنسی نے جاری کیا تھا۔

"دی نیوز انٹرنیشنل کی سینئر انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سینئر انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کے لیے مزید ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ اخبار میں شائع ہونے والے کسی بھی اشتہار کے مواد کی پہلے سے زیادہ احتیاط سے جانچ کی جائے۔”

دی نیوز انٹرنیشنل اخبار کے چیف ایڈیٹر عامر غوری سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سامنے پیش ہوئے۔ عامر غوری کہا کہ اخبار کی طرف سے چھاپے گئے اشتہارات "صحافی رپورٹنگ” کے ذمرے میں نہیں آتے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عامر غوری سے استفسار کیا کہ آپ  کے اشتہارات میں پاکستان کے معزز چیف جسٹس کی تصویر استعمال کی۔”

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ اس معاملے کو "کسی بھی قیمت پر” نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس من اللہ نے کہا کہ اخبار نے تجارتی مقاصد کے لیے عدلیہ کے خلاف اشتہارات چھاپے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنکھیں بند نہیں کریں گے۔ اس طرح کے اشتہار کو چھاپنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔

اخبار کے ایڈیٹر نے اشتہارات پر عدالت سے معافی مانگی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے دہرایا کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ "میر شکیل الرحمان کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کو کہیں۔ کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ نے ایک ایسے معاملے پر اشتہار چھاپ دیا جو اس وقت زیر سماعت ہے؟”

اخبار کے ایڈیٹر عامر غوری کا کہنا تھا کہ بیرسٹر فہد ملک کے اہل خانہ نے اشتہار دیا تھا، اشتہار کو شائع کرنا غیر ارادی غلطی تھی۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے دو دن مسلسل اشتہار شائع کیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک غیر ارادی غلطی تھی۔”

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہ "اشہتار دینے والوں نے ایک جج پر "ڈیل کرنے” کا الزام لگایا ہے۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وہ پیر (30 مئی) کو ہونے والی اگلی سماعت کے شیڈول میں ذاتی طور پر پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک مذاق بن گیا ہے جہاں کسی کو لگتا ہے کہ وہ عدلیہ کے بارے میں کچھ بھی کہہ دیتا ہے۔

جنگ اور جیو میڈیا گروپ کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے نوٹس لینے پر عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اخبار نے آج کے ایڈیشن میں معافی نامہ چھاپ دیا ہے۔ اور بدھ کا ایڈیشن بھی عدالت میں پیش کردیا۔

جسٹس من اللہ نے کہا، "عدالت اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرے گی،” انہوں نے مزید کہا کہ اخبار کو کل کے صفحہ اول پر معافی نامہ چھاپنا پڑے گی۔

IHC کے چیف جسٹس نے کہا کہ کاغذ پر لکھی ہوئی معافی آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے تھی ، جس پر عامر غوری نے عدالت کو یقین دلایا کہ معافی کل کے شمارے میں چھپ جائے گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو چاہے کریں ، لیکن عدالت میں بیان حلفی جمع کروائیں اور میر شکیل الرحمان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کو کہیں۔

بعدازاں عدالت نے سماعت پیر (30 مئی) کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ تحاریر