قربانی اور حج عشق اور محبت کی عظیم داستان ہے، ڈاکٹر سمیعہ قاضی
سابق امیر جماعت اسلامی کی صاحبزادی کا کہنا ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے برکت آتی ہے کمی کبھی نہیں ہوتی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد کی صاحبزادی اور معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر سمیعہ قاضی کا کہنا ہے قربانی کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے ، اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنا اپنا اسماعیل ڈھونڈنا ہے اور پھر اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے ، کیونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام قربانی کا استعارہ ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیوز 360 کے نامہ نگار الیان الکریم کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا جج ایک عشق اور قربانی کی عظیم داستان ہے ، جس کی پریکٹس ہر سال اللہ تعالیٰ ہم سے کرواتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی جارہی ہے
ملک بھر میں آج اہل پاکستان مذہبی جوش و جذبے سے عیدالاضحیٰ منا رہے ہیں
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے حدیث کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ قربانی والے دن قربانی سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قربانی کی جگہ کسی غریب کی پیسوں سے مدد کردی جائے تو زیادہ اجر ہے ، اصل میں یہ وہ لوگ کہتے ہیں جن کے پاس ڈھائی ڈھائی تین تین لاکھ روپے کے موبائل فونز ہوتے ہیں اور شادی پر 12 ، 12 لاکھ روپے کا شادی کا جوڑا بنواتے ہیں انہیں اُس وقت اسراف نظر نہیں آتی، اگر انہوں نے کسی غریب کے گھر میں راشن ڈلوانا ہے تو وہ عید قربان والے دن کے علاوہ کسی اور دن بھی ڈلوا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ قاضی کا کہنا تھا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے برکت آتی ہے کمی کبھی نہیں ہوتی ، آپ تجزیہ کرکے دیکھ لیں ہر سال ہزاروں جانور قربان کیے جاتے ہیں مگر اگلے سال پہلے سے زیادہ جانور منڈی میں آجاتے ہیں، یہ برکت نہیں تو اور کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا معاشی ماہرین سے پوچھیں اس کاروبار سے کتنے لوگ جوڑے ہوئے ہیں ، کتنے لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے ، سارا سال بیوپاری جانوروں کو پالتے ہیں ، پھر منڈی میں آکر ان کو بیچ دیتے ہیں ، پھر قربانی والے دن قصائیوں کا کاروبار کھل جاتا ہے، یہ سب قربانی کی برکتیں ہیں۔
نیوز 360 سے بات چیت کرتے ہوئے اسلامی اسکالر ڈاکٹر سمیعہ قاضی نے مزید کیا مشاہدے شیئر کیے دیکھتے ہیں اس انٹرویو میں۔۔۔









