عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت ، اعظم نذیر تارڑ کو مہنگی پڑ گئی

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ہوا میں کئی قسم کے افواہیں گردش کررہی ہیں ، لیکن اعظم نذیر تارڑ کے استعفے کی اصل وجہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت ہی ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ بھی وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کو خیرباد کہہ گئے ، صدر مملکت کو ارسال کردہ استعفے میں انہوں نے ذاتی وجوہات کو بنیاد بنایا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکاء کی جانب سے اداروں کے خلاف نعرے بازی پر احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ‘ذاتی وجوہات’ کی بنا پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر وفاقی وزیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام نہیں دے سکے۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ، وزیراعظم ، وزیر خارجہ ، عمران خان ، تمام صحافتی تنظیموں اور دیگر رہنماؤں کی ارشد شریف کے قتل کی مذمت

ای سی پی نے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن روک دیا

ان کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں۔ جہاں وہ سعودی فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سمٹ میں بھی شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم تارڑ کو بھی خصوصی طور پر خطاب کی دعوت دی گئی تھی تاہم ان کی موجودگی میں کانفرنس کے شرکاء نے حساس اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

اعظم نذیر تارڑ نے اتوار کے روز لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کی اختتامی تقریب کے دوران قومی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔

کانفرنس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "میں بہت مایوس ہوں، آج عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2022 میں شرکاء کے ایک چھوٹے سے گروپ نے جس طرح سے ریاستی اداروں کے خلاف غیراخلاقی نعرے لگائے ، کسی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے ، وہ اب تک کی ان کامیابیوں کو بھول گئے ہیں۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "ہمیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کا احترام کرنا چاہیے ، یہی جمہوری معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔”

ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ گزشتہ روز یعنی 24 اکتوبر کو سپریم کے نئے جج صاحبان کیا انتخاب کیا گیا تھا ، جن تین ججز کا انتخاب کیا گیا انہیں وزیر قانون نے پہلے ریجیکٹ کیا تھا اب انہیں دوبارہ سیلیکٹ کیا گیا ہے۔

اسی طرح گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ” جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ذاتی طور پر نہیں بلکہ بطور وفاقی وزیر ووٹ دیا اور یہی استعفی کی اصل وجہ ہے۔ ان ججز کی تعیناتیوں کیخلاف تھے لیکن حکومتی پالیسی پر مجبورا عمل کرنا پڑا۔”

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ہوا میں کئی قسم کے افواہیں گردش کررہی ہیں ، لیکن اعظم نذیر تارڑ کے استعفے کی اصل وجہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت ہی ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گزشتہ روز کانفرنس کی اختتامی تقریب کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی شدید مذمت کی۔

پارٹی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں سابق صدر نے نعرے بازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پلیٹ فارم کو ریاستی اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر