کیا نواز شریف الطاف حسین کو دوبارہ سیاست میں زندہ کرنا چاہتے ہیں؟

لندن میں مقیم حکومت کے حامی دو صحافی اظہر جاوید اور مرتضیٰ علی شاہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی قومی سیاست میں واپسی کے لیے مہم چلاتے ہوئے پائے گئے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ صحافیوں کی اکثر نواز شریف سے بیٹھک ہوتی ہے۔

دنیا نیوز سے منسلک بیورو چیف یو کے اظہر جاوید نے کہا ہے کہ اگر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی لائیو تقریر سے پابندی ہٹائی جاسکتی ہے تو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے بھی ہٹائی جاسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف رپورٹر اظہر جاوید نے 5 اور 7 نومبر کو ایک سلسلہ وار ٹویٹس پوسٹ کیں جن میں وہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھائی رہے تھے ، ان کا کہنا تھا جس طرح حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تقریر سے پابندی ہٹائی ہے ایسے ہی الطاف حسین سے بھی پابندی ہٹائی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیب نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کردیں

خیبر: پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز کا مشترکہ آپریشن، انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پیغام شیئر کرتے ہوئے دنیا کے لندن میں بیورو چیف اظہر جاوید نے لکھا ہے کہ ” بطور پنجابی سمجھتا ہوں @AltafHussain_90 پر پابندی ناجائز ہے وہ اپنے کہے الفاظ پر معافی مانگ چکے۔”

وزیراعظم سے درخواست کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ "شہری سندھ اور مہاجر قوم کے سب سے مقبول  رہنما پر سے پابندی فوری اٹھنے چاہئے۔ وزیراعظم صاحب @CMShehbaz

پاکستان کا شہری آپ سے تحریر و تقریر کا حق مانگ رہا ہے حق دیجیئے مہاجر قوم کو۔”

ایک اور ٹوئٹ میں رپورٹر اظہر جاوید کا کہنا ہے کہ ” یہ دہرا معیار ہے ، وفاقی حکومت نے عمران خان پر پابندی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا جبکہ @AltafHussain_90 پر پابندی برقرار ہے ۔ وزیراعظم @CMShehbaz اتنی ناانصافی کیوں مہاجر لیڈر کو بھی اس کا حق ملنا چاہئے الطاف حسین پر سے بھی پابندی ختم کی جانی چاہئے۔”

دنیا نیوز سے منسلک رپورٹر اظہر جاوید نے لکھا ہے کہ حکومت نے 7 نومبر کو پاکستانی میڈیا اور ٹی وی چینلز پر عمران خان کی تقریر براہ راست نشر کرنے کی اجازت دے دی تھی ، اگر عمران خان کو اجازت دی جاسکتی ہے تو مہاجروں کے ساتھ ناانصافی کیوں کی جارہی ہے۔

جیو نیوز یو کے کے رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے بھی پاکستانی حکومت سے الطاف حسین پر عائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں سیاسی بحران کے وقت حکومت کے حامی صحافیوں کی جانب سے ایسے مطالبات کیوں کیے جارہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے تاحیات سربراہ نواز شریف کی درخواست پر ایم کیو ایم کے بانی پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے؟

متعلقہ تحاریر