وزیراعظم نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں مقتول صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافی اور مقتول اینکر پرسن ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں سینیئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کے حقائق جاننے کے لئے جوڈیشل کمشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گورنر پنجاب نے گورنر ہاؤس کی سیکورٹی کے لیے رینجرز طلب کرلی
اسلام آباد کے راستے بند رہے تو دو صوبوں میں گورنر راج لگایا جاسکتا ہے، رانا ثناء اللہ
وزیراعظم کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ کے تمام دستیاب جج صاحبان پر مشتمل کمشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
شہباز شریف کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خصوصی درخواست کی گئی ہے کہ کمشن پانچ سوالات پر خاص طور پر غور کرسکتا ہے۔
1: ارشد شریف نے اگست 2022 میں بیرون ملک جانے کے لئے کیا طریقہ کار اپنایا۔
2: ارشد شریف کی بیرون ملک روانگی میں کس نے سہولت کاری کی۔
3: کوئی وفاقی یا صوبائی ایجنسی، ادارہ یا انتظامیہ ارشد شریف کو ملنے والی جان کو خطرے کی کسی دھمکی سے آگاہ تھے؟
4: اگر ارشد شریف کی جان کو خطرہ کی اطلاع تھی تو اس سے بچاؤ کے لئے کیا اقدامات کئے گئے؟
5: وہ کیا حالات اور وجوہات تھیں جس کی بنا پر ارشد شریف متحدہ عرب امارات سے کینیا گئے؟
خط کے متن کے مطابق پتا لگایا جائے کہ فائرنگ کے واقعات کی اصل حقیقت کیا ہے جن میں ارشد شریف کی موت ہوئی؟
خط کے متن کے مطابق پتا لگایا جائے کہ کیا ارشد شریف کی موت واقعی غلط شناخت کا معاملہ ہے یا پھر یہ کسی مجرمانہ کھیل کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم کا خط میں کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے کمشن کی تشکیل ضروری ہے ۔ اس ذمہ داری کی انجام دہی میں وفاقی حکومت کمشن کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کے خط کے مطابق ارشد شریف کے جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے کے فوری بعد تجربہ کار افسران پر مشتمل کمیٹی فوری طور پر کینیا بھجوائی گئی۔ ارشد شریف کی پاکستان سے روانگی سے قبل رابطوں کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائر جج صاحب پر مشتمل کمشن بنایا تھا۔ ارشد شریف کی والدہ صاحبہ نے آپ سے استدعا کی ہے، ہم اس استدعا کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کے خط کے متن مطابق ارشد شریف کے جاں بحق ہونے پر وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں پر شکوک وشبہات ظاہر کئے گئے۔ عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے سپریم کورٹ کا کمشن بنایا جانا ضروری ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرجانبدار باڈی نے تحقیقات نہ کیں تو طویل المدت بنیادوں پر نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔









