الطاف حسین کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت کا حق کس نے دیا؟

بانی ایم کیو ایم نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق سینیٹ میں منظور کی گئی قرداد کو آمرانہ قرار دے دیا

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت شروع کردی۔

الطاف حسین نے ریکوڈک کے نئے معاہدے کی منظوری سے متعلق سینیٹ آف پاکستان کی قرار داد کو آمرانہ قرار دیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر فاروق ستار کی الطاف حسین کے کیمپ میں دوبارہ شمولیت کی کوششیں

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کا کراچی، حیدر آباد میں بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان


الطاف حسین نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں  سینیٹ میں منظور کردہ قرار داد کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ  بلوچستان میں ریکوڈک کے ذخائر اور دیگر معدنی وسائل وفاق کو دے دیے گئے ہیں،بہت بہتر ہوتا کہ بلوچستان کی نام نہاد صوبائی حیثیت کو ختم کر کے اسے وفاق کی کالونی قرار دیا جاتا۔

الطاف حسین نے کہا کہ صرف اس قرارداد پر بلوچستان کے لوگ رو پڑے، اس طرح منظور ہونے والی قرارداد پاکستان کو ختم کرنے کی ایک نئی سازش ہے۔ میں ایسے آمرانہ اقدام کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

الطاف حسین نے مزید کہا کہ  میں اس قرارداد کی شدید مذمت کرتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا اور قرارداد پاکستان کو مزید تقسیم کرنے کی سازش کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اس لیے قرارداد کو فوری واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ریکوڈک معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا لیکن اسی عدالت عظمیٰ نے اب کینیڈا کی ایک فرم کے ساتھ ریکوڈک کے معاہدے کو درست قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ  اس طرح عدالت عظمیٰ نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ میں اسے بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ظلم اور لوٹ مار کی کھلی کارروائی قرار دیتا ہوں،میں اس ظلم کے خلاف بلوچستان کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوں۔

متعلقہ تحاریر