بلوچستان نایاب پرندوں اور جانوروں کا مسکن

پاکستان میں پائے جانے والے 174 اقسام کے جانوروں میں سے 94 اقسام بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔

جنگلی حیات کسی بھی خطّے کا سرمایہ ہوتی ہے، بلوچستان دنیا کے سرد علاقوں سے نایاب اور ہجرت کرکے آنے والے پرندوں اور جانوروں کا مسکن ہے اور یہاں خشکی اور سمندر میں انواع و اقسام کے جانور ، پرندے اور حشرات الارض پائے جاتے ہیں۔

بلوچستان جنگلی حیات کے اعتبار سے  نہ صرف ملک بلکہ ایشیا میں  منفرد اہمیت کا بھی حامل ہے، جو جانوروں کی افزائش کی دو اہم پٹّیوں ’’پلارائک‘‘ اور ’’اورینٹل‘‘ کے درمیان واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

"مم” کوئٹہ میں جس کے خوف کا ایک صدی تک راج رہا

نیلسن پینٹ نے قبرستان کی دیوار پر قابل اعتراض سلوگن لکھ ڈالا

پاکستان میں پائے جانے والے 174 اقسام کے جانوروں میں سے 94 اقسام بلوچستان میں پائے جاتے ہیں، جن میں آبی مرغابیاں، تلور، باز، جنگلی بکرے، اڑیال، چنکارا ہرن، سرخ، سیاہ خرگوش، خار پشت، ایرانی چوہے، بھیڑیے، گیدڑ، جنگلی بلّیاں، جنگلی خرگوش، لومڑیاں،گرگ، مگرمچھ، کچھوے، صحرائی بکرے، گورپٹ، لکڑبگڑ، کالے تیتر، چکور، سلیمانی مارخور، چلتن مارخور، ڈولفن، پرشین لیپرڈ، بلبل، سی سی اور گوگو سمیت مختلف اقسام کے کبوتر،مینا، ہدہد، بٹیر، فاختائیں، سانپ، مگرمچھ، زیتونی کچھوے، سمندری کچھوے، عقابوں میں گدھ، ایمپریل ایگل، گولڈن ایگل، سنہری عقاب، لوگھ عقاب، گدھوں میں گریفون، مصری گدھے، انڈین کوبرے شامل ہیں۔جب کہ ان کے علاؤہ ضلع چاغی کے ایگما جی سوکس، رینگنے والے نایاب جانور، خاران کی صحرائی لومڑیاں، ہرن، نوشکی کی صحرائی بلّیاں، خضدار کے کالے ریچھ، مارخور اور چکور کے علاوہ دیگر بہت سے نایاب پرندے اور جانور شامل ہیں، جو بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان مختلف ممالک سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کا بھی مسکن ہے جیسا کہ ماہِ ستمبر میں سائبیریا ، روس اور یورپی ممالک سے مہمان پرندے بلوچستان آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ پرندے ہمارے ماحول کے لیے بھی بہت مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں ماحول کے لیے غیر موزوں، نقصان دہ اور ناپسندیدہ کیڑے مکوڑے کو یہ اپنی خوراک بنالیتے ہیں۔

یہ مہمان پرندے ایسی مچھلیوں، پودوں اور گھاس پھوس کو کھاتے ہیں، جن کا حد سے زیادہ بڑھنا ماحول کے لئے مفید نہیں۔ ان پرندوں میں تلور ، کونجیں ، پیلی کان ، شاہین ، مرغابیاں ، بطخیں اور دیگر پرندے شامل ہیں۔

ان نایاب پرندوں اور جانوروں کے تحفّظ  و دیکھ بھال کے لیےصوبے میں تین پارک,14 وائلڈ لائف ہیچریز،،7کمیونٹی ریزروائر، ایک کومینجمنٹ اور ایک میرین پروٹیکٹڈ ایریاز شامل ہیں۔

بلوچستان کے مکران ڈویژن کے ساحلی علاقے میں واقع 10 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط پاکستان کے دوسرے بڑے قومی پارک ، ’’ہنگول نیشنل پارک‘‘ کو  بھی جنگلی حیات کے تحفّظ کا مرکز بنایا گیا ہے۔

 ہنگول نیشنل پارک کو 1988 میں قومی پارک کا درجہ دیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر