کور کمانڈر ہاؤس میں آتشزدگی: تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل
تحقیقاتی ادارہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس اور آرمی کی دیگر املاک پر حملہ کرنے، آگ لگانے، چوری کرنے والے مشتبہ افراد کی شناخت کرے گا۔
پنجاب کے نگراں حکومت نے کور کمانڈر ہاؤس (سابق جناح ہاؤس) میں توڑ پھوڑ کرنے ، آگ لگانے اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جے آئی ٹی واقعات کی تحقیقات کرے گی اور پنجاب کی عبوری حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرے گی۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ہیڈ آفس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا ہے کہ غنڈوں کے خلاف تمام مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلائے جائیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام آتش زنی کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے کارروائی تیز کی جائے گی، جب کہ تباہ ہونے والی تمام عمارتوں کی جیو فینسنگ کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
فریحہ ادریس نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے بیان کو فحش و افسوسناک قرار دیا
کور کمانڈر ہاؤس میں آتشزدگی: عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان پر سات مقدمات درج
نگراں سی ایم محسن نقوی کا کہنا ہے کہ شرپسندوں کے خلاف تمام مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلائے جائیں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ "ہم کسی مجرم کو نہیں چھوڑیں گے اور کسی بے گناہ کو پکڑا نہیں جائے گا،” ہر مجرم کو ثبوت کی بنیاد پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر ہاؤس ( سابق جناح ہاؤس) کے ساتھ ساتھ دیگر فوجی، سول اور نجی املاک پر حملہ کرنے والے سخت سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام تعلیمی ادارے 15 مئی (پیر) کو دوبارہ کھل جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجرموں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری فورس ہائی الرٹ ہے۔
اس موقع پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے اجلاس کو صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی۔
پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنائے۔
دریں اثناء قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زیادہ تر شرپسندوں کی شناخت کر لی ہے جنہوں نے لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملہ کیا، انہیں آگ لگا دی اور وہاں سے قیمتی سامان چرایا۔ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پرتشدد کارکن ہتھیاروں، لاٹھیوں، پیٹرول بموں اور پتھروں سے لیس تھے۔ ملزمان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے دانش منیر، سعود، عدنان اشرف، علی حسن عباس، چوہدری مسعود معراج، علی افتخار، وقاص پرویز، یوسف گلزار اور محمد ارسلان شامل ہیں۔
محمد تیمور جعفر آف لودھراں۔ عامر حمزہ آف پاکپتن۔ ملتان کے سجاد سعید اور اوکاڑہ کے علی رضا کی بھی شناخت ہو گئی ہے۔ تمام ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے والے بھی قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں۔ دیگر ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔









