اٹک ریلوے اسٹیشن پر واقع قدیم میوزیم سیاحوں سے محروم

اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پر کسی ٹرین کا اسٹاپ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں سیاحتی ٹرین کے علاوہ کوئی ٹرین نہیں رکتی۔

اٹک خورد ریلوے اسٹیشن، اٹک شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جس کے ساتھ ہی دریائے سندھ بہتا ہے۔ انگریز دور میں اس اہم ریلوے لائن پر طویل پل بنایا گیا تھا جو صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملاتا ہے۔

اٹک خورد کا خوبصورت ریلوے اسٹیشن سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے جہاں ریلوے کا میوزیم بھی واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جبل نورالقرآن قدیم اور بوسیدہ قرآنی نسخوں کی پناہگاہ

ایتھنز کے میوزیم میں اولمپک کھیلوں کی تاریخ کی نمائش

اس میوزیم میں بہت سی قدیم اور تاریخی اشیاء موجود ہیں ہیں مگر اکثر سیاح انہیں دیکھنے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ ریلوے اسٹیشن پر کسی ٹرین کا اسٹاپ نہیں ہے تاہم سیاحتی ٹرین اس اسٹیشن پر رکتی ہے۔

اٹک خورد ریلوے میوزیم میں داخل ہوں تو آپ پر برصغیر میں ریل کی تاریخ کے در وا ہوجاتے ہیں۔

یہاں 150 برس قدیم ریلوے کی اشیاء موجود ہیں جن میں میں ٹیلی گرافک مشین، ٹیلی گرافک ساؤنڈر، ٹیلی فون اور مواصلات کے دیگر قدیم آلات، روشنی کے آلات، منفرد پیپر ویٹ، وزنی گھنٹی اور اس دور کے جراحی کے آلات بھی موجود ہیں۔

اس میوزیم میں چینی سے بنے ظروف، ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر استعمال ہونے والی قدیم کراکری بھی نمائش کے لئے رکھی گئی ہے۔

یہاں کوئلے کی قدیم استری، پانی ذخیرہ کرنے کے عجیب و غریب اور منفرد ڈیزائن کے برتن، 100 برس قدیم چھت والے پنکھے، ٹرینوں کو گرم رکھنے والے تیل اور کوئلے سے چلنے والے ہیٹر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ریلوے میوزیم میں قدیم دستاویزات، ریلوے کے مونوگرام، ٹائپ رائٹر، سائرن اور ٹرینوں کے خوبصورت ماڈل بھی موجود ہیں۔

اس عجائب گھر میں رکھی اشیاء تاریخی اہمیت کی حامل ہیں جس سے شہریوں بالخصوص طالب علموں کو ریلوے کی تاریخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

متعلقہ تحاریر