وزیرآباد تحقیقات کو نقصان پہنچانے کا الزام: جے آئی ٹی کے ارکان تبدیل

سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب نے اتوار کے روز نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے اتوار کے روز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے تقریباً تمام ارکان کو تحقیقات میں تحفظات کی بنیاد پر تبدیل کردیا ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 نومبر کو

واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی پارٹی کے لانگ مارچ کی قیادت کررہے تھے جب 3 نومبر کو وزیرآباد کے اللہ والا چوک پر ان کے قافلے پر مبینہ طور پر مختلف اطراف سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملے میں عمران خان سمیت ان کے 13 کارکنان زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک کارن معظم جاں بحق ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کے لیے اسپیکر کا گورنر کے نام خط

منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دے دی

پنجاب حکومت نے لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی جس میں ریجنل پولیس آفیسر ڈی جی خان سید خرم، اے آئی جی انویسٹی گیشن برانچ احسان اللہ، سپرنٹنڈنٹ پولیس پوٹھوہار راولپنڈی ملک طارق محمود اور ایس پی شعبہ انسداد دہشت گردی نصیب اللہ شامل تھے۔

تاہم، سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے ایک رپورٹ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم) کو بھیجی، جس میں تحقیقاتی ٹیم کے چار سینئر ممبران کے خلاف مبینہ طور پر تحقیقات کو غیر پیشہ ورانہ طور پر سنبھالنے اور ہائی پروفائل کیس کو نقصان پہنچانے پر محکمانہ کارروائی کی سفارش کی تھی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے گجرات کے ڈی پی او سید غضنفر علی شاہ اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی سمیت دو دیگر سینئر پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز پیش کی ہے ، مذکورہ افسران تحقیقاتی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب نے اتوار کے روز نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے تفتیشی ارکان کی جگہ نئے ارکان کو تعینات کردیا ہے۔

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی پی او ڈی جی خان محمد اکمل، ایس پی انجم کمال اور ڈی ایس پی سی آئی اے جھنگ ناصر نواز اب جے آئی ٹی کے رکن ہیں۔

نوٹی فکیشن کے مطابق اس حوالے سے جے آئی ٹی کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں نئے ارکانِ کی تقرری کا پچھلی تاریخوں میں نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا جس کی تاریخ 14 جنوری رکھی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی اپنی صوابدید کے مطابق چوتھے رکن کو شامل کرنے کی مجاز ہے۔

متعلقہ تحاریر