ماروی مظہر کا چڑیا گھر بند کرنیکا مطالبہ، ہتھنی کے غیرملکی معالجین کی آمد جلد متوقع
جو شہر اپنے گٹر تک ٹھیک نہیں کرسکتا اسے چڑیا گھر جیسی جگہیں بندکردینی چاہئیں، ماہر تعمیرات، گورنر سندھ اور وزیربلدیات کا چڑیا گھر کادورہ، جانوروں کی دیکھ بھال میں غفلت کی تحقیقات کا اعلان

سماجی کارکن اور ماہرتعمیرات ماروی مظہر نے بیمار ہتھنی نور جہاں کے حوالے سے خبر شیئر کرتے ہوئے کراچی چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔
بین الاقوامی تنظیم فور پاز کے ماہرین کی رواں ہفتے کراچی آمد کا امکان ہے،گورنر سندھ نے جانوروں کی دیکھ بھال میں غفلت کی تحقیقات کرانے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہائی کورٹ میں ہاتھیوں کی صحت سے متعلق رپورٹ جمع
کراچی کے چاروں ہاتھی موٹاپے کا شکار
ماروی مظہر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ” اس شہر میں رہنے کیلیے بڑا دل چاہیے ، جو شہر اپنے گٹر تک ٹھیک نہیں کرسکتا اسے چڑیا گھر جیسی جگہیں بندکردینی چاہئیں جہاں ذہنی تناؤ کا شکار جانوروں کے سوا کچھ نہیں“۔
Bara dil chahiye is shehr mein rehnay ke liye. City that cannot fix their manholes should shut spaces like Karachi Zoo where there is nothing but depressed animals. @KmcPakistan @sindhwildlife @SindhCMHouse @AseefaBZ pic.twitter.com/YR7r5Jy5sy
— Marvi Mazhar (@marvimazhar) March 25, 2023
کراچی چڑیا گھر کے ایک بنجر احاطے میں رہنے والی 17 سالہ افریقی ہتھنی نور جہاں گزشتہ چند ہفتوں سے تکلیف میں ہے۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی صحت خراب ہوتی جارہی ہے۔
اس کے جوڑوں پر شدید سوجن نے اسے جزوی طور پر معذور کر دیا ہے اور اس کے جنسی اعضاء تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ بے پناہ درد کی وجہ سے وہ اب بمشکل حرکت کر سکتی ہے اور خود کو گھسیٹ رہی ہے۔
اگرچہ چڑیا گھر اس کی حالت سے غافل ہے اور اب تک کوئی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، امید کی ایک کرن جمعہ کو اس وقت دیکھی گئی جب کراچی چڑیا گھر کی نگہبان کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے جانوروں کے حقوق کے ایک بین الاقوامی گروپ ” فور پاوز“کو کراچی کادورہ کرکے ہتھنی کا علاج کرنے کی اجازت دی ہے ۔
فور پاز پہلے ہی بذریعہ فون نور جہاں کے علاج کیلیے چڑیا گھر کی انتظامیہ کی معاونت کررہی ہے ۔ پچھلے سال تنظیم کی ایک ٹیم نے کراچی کا دورہ کیا اور کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں موجود چاروں ہاتھیوں کا معائنہ کیا تھا –
24 مارچ کو لکھے گئے خط میں کے ایم سی نے نور جہاں کے علاج میں فور پاز کی دلچسپی کی حوصلہ افزائی کی۔خط میں کہا گیا ہے کہ نورجہاں کی صحت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے کراچی چڑیا گھر، کے ایم سی کی انتظامیہ آپ کی بروقت مدد چاہتی ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ”سفاری پارک کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چڑیا گھر میں موجود ہاتھیوں کی جوڑی مدھوبالا اور نور جہاں کے لیے ضروری رہائش کے انتظامات کرے،ان ہاتھیوں کو ممکنہ طور پر آپ کی رہنمائی کے مطابق سفاری پارک میں منتقل کیا جا سکتا ہے“۔
کے ایم سی کا جوابی خط فور پاز کی جانب سے چڑیا گھر کی انتظامیہ کو ہاتھیوں کے جسمانی معائنے کیلیے ارسال کردہ درخواست کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
تازہ پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی (پاز) کی سربراہ ماہرہ عمر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ فور پاز ٹیم جلد کراچی پہنچے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چڑیا گھر کے ہاتھی جلد کراچی سفاری پارک میں موجود اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں گے ۔
دریں اثنا نورجہاں کے کیس میں دلچسپی رکھنے والے وزیر اعظم کے اسٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے کہا کہ پنجاب کی وائلڈ لائف ٹیم کو بھی چڑیا گھر بھیجا گیا ہے۔انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ وائلڈ لائف ٹیم نور جہاں کے ٹیسٹ کرائے گی جن کی بنیاد پر نئی ادویات شروع کی جائیں گی ۔
سلمان صوفی نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے ہی کراچی کی انتظامیہ کو فورپاز کا دورہ کرانے کا مشورہ دیا تھا،انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھیں گے ۔
دریں اثنا گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ہفتے کووزیربلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کے ساتھ کراچی چڑیا گھر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نور جہاں کے علاج اور دیکھ بھال کے حوالے سے مکمل انکوائری کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چڑیا گھر کے عملے پر سیاسی حمایت کا الزام جھوٹا ہے، انکوائری میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہاتھی کی دیکھ بھال، خوراک اور علاج کے حوالے سے تین دن میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
ٹیسوری نے کہا کہ” ہاتھی کے علاج کے لیے بین الاقوامی تنظیم فور پاز کے ماہرین چار یا پانچ روز میں کراچی پہنچ جائیں گے۔ میں وزیر بلدیات کے ساتھ چڑیا گھر آیا ہوں تاکہ اگر کوئی انتظامی غفلت ہے تو اسے دور کیا جائے ‘‘۔
گورنر ٹیسوری نے کہا کہ چڑیا گھر کا دورہ کرنے کا مقصد نور جہاں کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تحقیقات کرنا تھا۔ یہ جانوروں کا مسئلہ ہے اس لیے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر بلدیات شاہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے نور جہاں کی خصوصی دیکھ بھال اور علاج کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فنڈز کی کمی ہے تو آصف زرداری علاج کا خرچ اپنی جیب سے پورا کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چڑیا گھر کے کچھ مسائل ہیں تاہم انہیں حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کے علاج کے لیے معیاری اسپتال بنانے اور ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کا بھی اعلان کیا۔









