90فیصد مردم شماری کے بعد کراچی کی آبادی بڑھنے کے بجائے 15 فیصد گھٹ گئی
کراچی میں مردم شماری کا 89.93فیصد عمل مکمل ہوگیا، اس وقت کراچی کی آبادی ایک کروڑ34لاکھ 71ہزار 136ہے جبکہ 2016 میں اس مرحلے پر کراچی کی ابادی 15.94 فیصد زیادہ یعنی ایک کروڑ60لاکھ24ہزار894 تھی، چیف مردم شماری کمشنر کا اسسٹنٹ کمشنرز پر عدم تعاون کا الزام

کراچی میں مردم شماری سے نیا تنازع کھڑا ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے، مردم شماری کا عمل 90 فیصد مکمل ہونے کےبعد کراچی کی آبادی 6 سے پہلے کی گئی مردم شماری کے مقابلے میں 15فیصد کم ہوگئی۔
کراچی سمیت ملک بھر میں مردم شماری کا عمل پیر کو مکمل ہونا تھا تاہم اس میں دوسری مرتبہ توسیع کردی گئی ہے کیونکہ شمارکنندگان کو بہت سے گھرانوں تک پہنچنے میں تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈیجیٹل مردم شماری کی تاریخ میں توسیع کردی گئی
حکومت کا ڈیجیٹل مردم شماری کی آڑ میں کراچی کی آبادی مزید کم دکھانے کا مںصوبہ
کراچی شہر کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے سامنے آنے والا سب سے بڑا تنازع رہی۔ سیاسی جماعتیں خصوصاً ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی دعویٰ کرتی آئی ہیں کہ شہریوں کی حتمی گنتی اصل تعداد سے کم ہے۔ان اعتراضات کی وجہ سے مردم و خانہ شماری کی مشق 6 سال بعد دہرائی گئی ہے۔
مردم شماری کے اعداد و شمار سے آگاہ ایک ذریعہ نے انگریزی روزمانہ ڈان کو بتایا کہ اب تک شہر میں 26لاکھ 40ہزار سے زیادہ گھرانوں کی گنتی کی جا چکی ہے، جس سے مردم شماری کا عمل 89.93 فیصد مکمل ہو گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت کراچی کی آبادی ایک کروڑ34لاکھ71ہزار136 ہے جبکہ2016 کی مردم شماری کا 89.93 فیصد عمل مکمل ہونے کے بعد کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ 24ہزار894 تھی۔ اس طرح 89.93فیصد گنتی مکمل ہونے کے بعد2017 کے مقابلے میں شہر کی آبادی 15.94 فیصد کم ہےجبکہ 2016 کی مردم شماری میں حتمی گنتی ایک کروڑ 60 لاکھ 50ہزار کے قریب تھی۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ10 فیصد کچھ زیادہ باقی ماندہ آبادی کو گننے کے بعد اگر ہم کراچی کی آبادی میں اضافے کےامکان کے بارے میں بات کریں تو اعداد وشمار امید افزا دکھائی نہیں دیتے۔
کراچی کے سات اضلاع شرقی، غربی، جنوبی، وسطی، کورنگی، کیماڑی اور ملیر میں سے کسی میں بھی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران آبادی میں اضافہ نہیں ہوا۔ضلع کے حساب سے کراچی کی آبادی میں سب سے زیادہ 25 فیصد کمی ضلع شرقی میں دیکھنے میں آئی ہے جہاں 85فیصد گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ اسی طرح کا رجحان ضلع جنوبی میں 92.64 فیصد گھرانوں کا اندراج مکمل ہونے کےبعد 19.70 فیصد کے منفی فرق کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
ضلع کورنگی کی ریکارڈ شدہ آبادی میں بھی 2017 کی مردم شماری کے مقابلے میں ایک فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی، کیماڑی 17 فیصد، وسطی 11.84 فیصد، غربی 9.68 فیصد اور ملیر کی آبادی میں 6.61 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
تاہم ادارہ شماریات پاکستان کے چیف مردم شماری کمشنرڈاکٹرنعیم ظفر کا کہنا ہے کہ مشق کا تقریباً 90 فیصد مکمل ہونے کے باوجود حتمی گنتی کا تخمینہ لگانے کے لیے اعداد و شمار پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ”ابھی بھی کراچی میں10 فیصد سے زیادہ گھرانےشمار ہونے سے رہتے ہیں۔ لہٰذا حتمی گنتی کا اندازہ لگانے کے لیے اب تک کی تعداد پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ‘‘ ۔
انہوں نے کہاکہ کئی علاقے ایسے ہیں جن میں بلند و بالا رہائشی بستیاں شامل ہیں جہاں شمار کنندگان ابھی تک نہیں پہنچ سکے ہیں، حتمی تعداد کا تعین مردم شماری کا عمل مکمل ہونے کےبعدہی کیا جاسکے گا ۔ ڈاکٹر نعیم ظفر نے کہا کہ ڈیڈ لائن میں توسیع کے ساتھ ٹیمیں ہر ایک فرد تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔
اعداد وشمار اکٹھا کرنے میں تاخیر کی وجہ سے فیلڈ ورک کی آخری تاریخ پیر کو 5 دن کے لیے بڑھا کر 14 اپریل تک کر دی گئی تھی۔ اس سے قبل اس تاریخ کو 4 اپریل کی پہلی سرکاری ڈیڈ لائن سے بڑھا کر 10 اپریل کر دیا گیا تھا۔
چیف مردم شماری کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا اور بڑے شہری مراکز میں اپنی ٹیم کو درپیش چیلنجوں کا خاکہ پیش کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کی عدم دلچسپی مشق اور اس کے نتائج کو متاثر کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ظفر نے کہا کہ”ہمیں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہری مراکز میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،بدقسمتی سےاسسٹنٹ کمشنرز اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر رہے ہیں۔ وہ فیلڈ میں نہیں ملتے ،وہ صحیح طریقے سے شمار کنندگان کی تعیناتی یا ان کی ملازمتوں کی نگرانی نہیں کر رہے‘‘ ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی بی ایس ان مسائل پر کئی بار صوبائی حکومتوں کو خط لکھ چکا ہے،میدان میں موجود عملہ کئی مشکلات کا حوالہ دے رہا ہے جن سے انہیں خدشہ ہے کہ بالآخر اربوں روپے کی لاگت سے ہونے والی قومی مشق کے حتمی نتائج میں ظاہر ہوں گے۔
انہوں نے پوری مشق کے تکنیکی انتظام کے ساتھ ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے بنائے گئے سافٹ ویئر میں چند لیکن بڑی خامیوں کا دعویٰ کیا۔
شمار کنندگان کی طرف سے اٹھائے گئے ایک اور مسئلہ مشق میں شہریوں کی طرف سے ظاہر کیے گئے اعتماد کی کمی تھی۔ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ”لوگ حکومت کے ساتھ بھی اپنے ڈیٹا یا خاندانی تفصیلات کا اشتراک نہیں کرنا چاہتے ہیں، یہ واقعہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا“۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ”ہمارے پاس دیہات، قصبوں اور شہری مراکز سے رپورٹیں ہیں جہاں لوگوں نے ہماری ٹیموں کو تفصیلات دینے سے فوراً انکار کر دیا ہے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو لوگ اس وسیع مشق کی اہمیت سے لاتعلق تھے یا پھر ان کا حکومت یا اس کے اداروں سے اعتماد اٹھ گیا ہے“۔









