بابر اعوان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو غیرآئینی قرار دے دیا
بابر اعوان کا کہنا ہے میرا تجربہ کہتا ہے کہ پاکستان کی تبدیلی اور عمران خان کی واپسی میں کوئی لمبا راستہ نہیں بچا۔
معروف قانون دان بابر اعوان نے کہا ہے کہ 13 جڑی بوٹیاں اور 22 لوٹوں نے جو کام کیا وہ غیر آئینی ہے، صدر اسے واپس کر سکتے ہیں یا سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوا سکتے ہیں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ غیر نمائندہ اسمبلی میں 13 زہریلی جڑی بوٹیاں اور دو درجن لوٹوں کو اکٹھا کیا گیا ہے، یہ اگر بل بناتے بھی ہیں تو صدر کے پاس جائے گا ان کے پاس دو اختیارات ہیں، صدر آئینی ریفرنس سپریم کورٹ کے پاس بھیج سکتے ہیں، مجھ سے اگر پوچھا گیا تو کہوں گا یہ ریفرنس ضرور بھیجیں۔
یہ بھی پڑھیے
ن لیگ کا قصور جلسہ: مریم نواز کے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے
قانون کو قیمے کا نان سمجھنے والوں کے دن گئے، مونس الہٰی شہبازشریف کیخلاف اہم گواہی نکال لائے
بابر اعوان نے مزید کہا کہ ریفرنس میں سپریم کورٹ سے پوچھا جائے گا کیا یہ بل آپ کو منظور ہے آپ کی اس پر کیا رائے ہے، صدر کے پاس یہ راستہ بھی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کی ترمیم ماتحت قانون سازی سے نہیں ہو سکتی، آئین میں آرٹیکل 238 اور 239 موجود ہے، آئین میں لکھا ہواہے کہ یہ آئینی ترمیم ہے، ایک دفعہ ضیاءالحق کا نام آگیا تھا جسے نکالنے کیلئے کئی سال لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا تجربہ کہتا ہے کہ پاکستان کی تبدیلی اور عمران خان کی واپسی میں کوئی لمبا راستہ نہیں بچا، عمران خان پر 43 مقدمات اسلام آباد میں ہوئے ہیں ہمارے 400 کارکنوں کو دہشت گردی کے کیس میں پکڑا گیا ہے، حکومت کو ڈوب مرنا چاہیے کہ اگر ایک شہر میں 400 سے زیادہ دہشت گرد ہیں تو اس حکومت کے رہنے کا کوئی جواز نہیں۔









