پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش کا لوئر مڈل انکم والے ممالک میں شمار

عالمی معاشی بدحالی کی بدولت 2023 میں اچھی اور بہتر تنخواہ والی نوکری تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا، پورے جنوبی ایشیائی خطے کو اپنی توانائی کی کھپت کو کم کرنا ہوگا،اقوام متحدہ کی لیبر ایجنسی کی رپورٹ میں تننبیہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان  لوئر مڈل انکم والا ملک ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔

پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں اقتصادی فوائد کے باوجود بھارت اور بنگلہ دیش کو کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے اور پورے جنوبی ایشیائی خطے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی کھپت کو کم کریں۔ نیپال کو بھی اسی زمرے میں رکھا گیا ہے  جبکہ  افغانستان کو کم آمدنی والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریکوڈک منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز ہو گیا، بیرک گولڈ کاپوریشن

کراچی میں کرونا کی انتہائی متعدی قسم امیکرون ایکس بی بی کے 6 کیسز کی تصدیق


اقوام متحدہ کی لیبر ایجنسی کی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ عالمی معاشی بدحالی کی بدولت 2023 میں اچھی اور بہتر تنخواہ والی نوکری تلاش کرنا 2022 کے مقابلے میں مشکل ہو جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین جنگ سے جنوبی ایشیا متاثر نہیں ہوا ہے کیونکہ اس کے روس اور یوکرین کے ساتھ براہ راست روابط کم ہیں لیکن  اس تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی مہنگائی خطے کیلیے بہت خطرناک ہے۔

رپورٹ میں پاکستان اور بنگلا دیش کے سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئےکہا گیا ہے کہ  جنوبی ایشیا قدرتی آفات کے انتہائی خطرے سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  پاکستان جیسے ممالک بھی انرجی سبسڈی کی بہت زیادہ شرح  سے تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جس کا عوام کے معاش پر بہت زیادہ بوجھ ہے  اور وہ غربت کو مؤثر طریقے سے کم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لک ٹرینڈز رپورٹ کے مطابق یہ عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد یعنی 16 ملین افراد کے مساوی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آج کی معاشی سست روی کا مطلب ہے کہ بہت سےملازمین کو طویل اوقات کی معمولی اور انتہائی کم تنخواہ کی ملازمتیں قبول کرنا پڑیں گی ۔

متعلقہ تحاریر