پاکستانی خاتون انڈیا کے گاؤں کی سربراہ

بانو بیگم کی شادی اختر علی نامی ایک انڈین شہری سے ہوئی تھی جس کے بعد وہ گاؤں کی سربراہ بن گئیں۔

سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے لیے انڈیا ہمیشہ سے پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا ہے اور اس الزام کو مدعہ بنا کر پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں اتر پردیش انتظامیہ کو اس وقت سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب یہ اطلاع ملی کہ ایک پاکستانی شہری بانو بیگم اترپردیش کے گاؤں ایٹہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بانو بیگم پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی رہائشی ہیں۔ وہ 35 سال قبل انڈین ریاست اترپردیش کے گاؤں ایٹہ میں اپنے رشتہ دار کے گھر گئی تھیں۔

ان کی شادی اخترعلی نامی ایک انڈین شہری سے ہوئی تھی جس کے بعد وہ گاؤں کی سربراہ بن گئی تھیں۔ تب سے وہ ایک طویل المیعاد ویزے پرایٹہ میں مقیم ہیں اور متعدد مواقع پرانڈین شہریت کے لیے درخواست بھی دے چکی ہیں۔

انڈیا گاؤں ایٹہ

سنہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران بانو بیگم گواڈو گرام پنچایت کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ 5 سال بعد 9 جنوری 2020 کو گرام پردھان شہناز بیگم کا انتقال ہوگیا جس کے کچھ دن بعد گاؤں کی کمیٹی کی سفارش پر بانو بیگم نے عبوری پردھان کا عہدہ سنبھال لیا۔

یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک دیہاتی قویداں خان نے شکایت درج کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بانو نامی پاکستان کی ایک عورت انڈیا میں گاؤں کی سربراہ بن گئی ہیں۔

اگرچہ بانو بیگم نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن ڈسٹرکٹ پنچایت راج افسر (ڈی پی آر او) الوک پریادشی نے یہ معاملہ ایٹہ کے ضلعی مجسٹریٹ سکھل بھارتی کے ساتھ اٹھایا جس نے ایف آئی آر اور تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں مسلمان مرنے کے بعد بھی غیرمحفوظ

انڈین اخبار ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے مطابق الوک پریادشی نے کہا کہ بانو بیگم کے خلاف موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر تفتیش سے پتہ چلا کہ وہ پاکستان کی شہری ہیں۔ ان کے پاس جعلسازی کے ذریعے بنایا گیا ایک آدھار کارڈ اورووٹر شناختی کارڈ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بانو بیگم کو گاؤں کی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے اورانہیں عبوری پردھان نامزد کرنے کی سفارش گاؤں کے سیکریٹری دھنپال سنگھ نے کی تھی جنہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھارتی نے کہا کہ جانچ پڑتال کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں کہ وہ کس طرح گرام پنچایت کی رکنیت کا الیکشن لڑنے کے لیے آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے