اب افغانستان میں ڈالر نہیں چلے گا، طالبان نے پابندی لگادی
اس وقت افغانستان میں امریکی ڈالر اور جنوبی سرحد کے تجارتی راستوں کے نزدیک واقع علاقوں میں پاکستانی روپیہ بھی استعمال ہوتا ہے

طالبان نے تمام شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں صرف افغان کرنسی میں لین دین کیا جائے، احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
گذشتہ روز دارالحکومت کابل میں افغانستان کے سب سے بڑے فوجی اسپتال پر ایک دہشتگردانہ حملے جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے اس حملے کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ تمام شہریوں، دکانداروں، تاجروں اور عوام کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ تمام لین دین افغانی کرنسی میں کریں اور غیر ملکی کرنسی کے استعمال سے سختی سے گریز کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ "جو بھی اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
یہ بھی پڑھیے
طالبان حکومت تسلیم کریں یا نہیں؟ جی 20 سر جوڑ کر بیٹھے گی
کیا طالبان کی فتح میں پاکستان کا کردار ہے؟ امریکی سینیٹرز کا سوال
بیان میں کہا گیا ہےکہ ملک بحران کی صورتحال سے دوچار ہے ملک میں اقتصادی صورت حال اور قومی مفادات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام افغان شہری ہر قسم کی لین دین میں افغانی کرنسی کا استعمال کریں”۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایجنسیاں خبردار کر چکی ہیں کہ افغانستان دنیا میں بدترین انسانی بحرانات میں سے ایک بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے رواں موسم سرما میں افغانستان کے دو کروڑ سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکا ر ہوسکتے ہیں ۔
افغانستان کی سابقہ مغربی حمایت یافتہ حکومت نے یونائیٹڈ سٹیٹس فیڈرل ریزرو اور یورپ کے دیگر مرکزی بینکوں کے پاس افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک رکھے تھے۔ اگست میں طالبان کے ملک پرقبضے کے بعد، امریکہ کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افغانستان کی 9.5 بلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثوں اور قرضوں تک رسائی کو روکنے کا فیصلہ کیاتاہم طالبان طالبان حکومت مرکزی بینک پر افغانستان کے ضبط کئے گئے اربوں ڈالر کے ذخائر کی بحالی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے
واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں کئی معاملات میں امریکی ڈالر کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ جنوبی سرحد کے تجارتی راستوں کے نزدیک واقع علاقوں میں پاکستانی روپیہ بھی استعمال ہوتا ہے۔









