بھارت میں پاکستانی روح افزا کی آن لائن فروخت پر مکمل پابندی عائد
دہلی ہائیکورٹ نے 5 ستمبر کو ہمدرد فاؤنڈیشن انڈیا کی درخواست پر ایمازون سے پاکستان روح افزا کی فہرستیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ایمازون انڈیا نے عدالتی احکام پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستانی روح افزا کی فروخت روکوا دی۔

دہلی ہائی کورٹ نے مختلف فروخت کنندگان کومشہور ہندوستانی شربت ’روح افزا‘ کے ٹریڈ مارک سےمشابہہ مصنوعات فروخت کرنے سے مستقل طور پر روک دیا ہے۔
روح افزا کی مالک ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن انڈیا نے دہلی ہائیکورٹ میں دعویٰ دائر کیا تھا کہ اسکے پاکستانی شراکت دار کی مصنوعات ای کامرس ویب سائٹ کے ذریعے بھارت میں فروخت کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دل افزا شربت ہماری نقل کر رہا ہے، روح افزا نے مقدمہ درج کروا دیا
روح افزا جنوبی ایشیا میں رمضان کی روایت کیسے بنا؟
انڈین ایکسپریس کے مطابق جسٹس پرتیبھا سنگھ پر مشتمل سنگل بینچ نے یہ فیصلہ مدعی ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن اور ہمدرد لیبارٹریز انڈیا کی طرف سے پیش کردہ ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کے مقدمے میں جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گولڈن لیف نامی کمپنی ایمیزون انڈیا پر’روح افزا‘ کے نام سے مصنوعات فروخت کر رہی تھی جو کہ کمپنی نے اسے فروخت نہیں کی تھیں۔
ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ شربت پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے اور یہ لیگل میٹرولوجی ایکٹ 2009، لیگل میٹرولوجی (پیکیجڈ کموڈٹیز) رولز 2011 اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعات سےمتصادم ہے ۔
روح افزا کو سب سے پہلے حکیم حافظ عبدالمجید نے دہلی میں متعارف کرایا تھا لیکن تقسیم ہند کے بعد ان کے بڑے بیٹے ہندوستان میں مقیم رہے جبکہ چھوٹے بیٹے پاکستان چلے گئے جس کے بعد بھارت میں مشروب کی تیاری کے حقوق ہمدرد لیبارٹریز(وقف) کے پاس ہے جبکہ بھارت میں مشروب کے حقوق کی مالک ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن ہے ۔
دہلی ہائیکورٹ کے علم میں آیا ہے کہ”روح افزا کا نشان مدعی کی جانب سے الکوحل سے پاک شربت اور مشروبات سمیت متعدد مصنوعات کے لیے استعمال کیا جاتاہےجس کے لیے مدعی نمبر 2 نے 11 اگست 1975 کو مدعی نمبر ایک سے حقوق حاصل کیے تھے ۔روح افزا کا ا نشان بھارت میں رجسٹرڈ ہے اور مدعیان کی رجسٹریشن میں سے ایک 3 اگست 1942 کی ہے“ ۔
5 ستمبر کوہائی کورٹ نے ایمازون کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان میں تیار کردہ روح افزا کی فہرستیں بھارت میں اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے کیونکہ یہ پروڈکٹ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے بھارتی عوام استعمال کر رہے ہیں اور اس کا معیار فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ اور لیگل میٹرولوجی ایکٹ کے ذریعہ تجویز کردہ قابل اطلاق ضوابط کے معیارات کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔
عدالت نے قراردیا تھا کہ یہ امر حیران کن ہے کہ ایمازون پر ایک درآمدی پروڈکٹ مینوفیکچرر کی مکمل تفصیلات ظاہر کیے بغیر فروخت کی جارہی ہے ۔ جسٹس پرتھیبا سنگھ نے ایمازون کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی ویب سائٹ سے ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن کی اجازت کے بغیر فروخت ہونے والی روح افزا مصنوعات 48 گھنٹے میں ہٹائے۔
11نومبر کو ہونے والی سماعت میں ہائی کورٹ کو مطلع کیا گیا کہ ایمازون انڈیا نےعدالت کے سابقہ حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے پلیٹ فارم پر غیرقانونی مصنوعات فروخت کرنے والے تمام فروخت کنندگان کی تفصیلات ظاہر کردی ہیں ۔ ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خلاف ورزی کی مرتکب تمام فہرستیں ہٹادی گئی ہیں لہٰذا وہ عدالتی حکم پر ملنے والے ریلیف سے مطمئن ہیں۔









