اسلام آباد انتظامیہ کی ناک کے نیچے منشیات، پرائیویٹ رومز کے ساتھ ڈانس پارٹی کی پیشکش
اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی جبکہ 15 جنوری کو ایک خفیہ ’نائٹ ڈانس پارٹی‘ میں منشیات، شیشہ اور پرائیویٹ رومز کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کی انتظامیہ اور وزارت داخلہ اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ 15 جنوری کو شہر اقتدار میں ایک خفیہ ’نائٹ ڈانس پارٹی‘ کا پروگرام ترتیب دیا جارہا ہے جس میں شرکا کو منشیات، شیشہ اور پرائیویٹ کمروں کی پیشکش کی گئی ہے۔
‘نائٹ پارٹیز’ کے نام سے ایک "فیس بک پیج” پر اسلام آباد میں 15 جنوری کو منعقد ہونے والی ‘ون نائٹ ڈانس پارٹی’ کے پروگرام کا انکشاف کیا گیا تاہم ابھی تک جگہ کو عوام سے خفیہ رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد فلیٹ بلیک میل کیس میں نیا موڑ، لڑکا لڑکی کا ملزمان کو پہچاننے سے انکار
کسٹم حکام کی طور خم بارڈر پر کارروائی، 1 بلین کی منشیات برآمد
ڈانس پارٹی کے منتظمین کی جانب سے ایک ‘سہولیات’ پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس میں ‘شراب (مشروبات)’، ‘آئی سی ای’ (منشیات) اور پرائیویٹ روم شامل ہیں۔ ڈانس پارٹی میں سنگلز ، جوڑے اور گروپ شرکت کرسکتے ہیں۔ ڈانس پارٹی کے چارجز 12,500 روپے رکھے گئے ہیں۔ منتظمین نے شرکا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں پکڑے جانے سے ‘100%’ سیکورٹی کی ضمانت بھی دی ہے۔

فیس بک پیج پر ڈانس پارٹی کے مقام اور منتظمین کے ناموں کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے، جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے بہت سے دوسرے دعوت ناموں میں واٹس ایپ نمبر بھی دیئے جاتے ہیں۔
شراب اور منشیات کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان بھر میں نجی پارٹیوں کے اس قسم کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی دعوت نامے زیادہ تر فیس بک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت اعلیٰ حکام وفاقی دارالحکومت میں بھی ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے ابھرتے ہوئے رجحان کا نوٹس لینے میں بظاہر ناکام نظر آتے ہیں جن میں منشیات پیشکش کی جارہی ہے۔

اگرچہ شہریوں میں منشیات اور شراب کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کیے گئے تھے، لیکن نجی اور خفیہ پارٹیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جن کے منتظمین اب سیکورٹی حکام کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی سے حفاظت کی ضمانت کی پیشکش کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ بڑے شہروں میں پرائیویٹ پارٹیوں کے دوران زیادتی، تشدد، قتل جیسی کئی مجرمانہ سرگرمیاں بھی رپورٹ ہوئی تھیں۔
ستمبر 2021 میں لاہور میں ایک ڈانس پارٹی میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد ایک لڑکی نے اپنے دوست سمیت تین افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

متاثرہ لڑکی، جس کا نام متعلقہ حکام نے صیغہ راز میں رکھا تھا، نے پولیس شکایت میں انکشاف کیا کہ ملزمان کی جانب سے ہوٹل کے ایک کمرے میں سات دن تک مسلسل زیادتی کی گئی تھی، اس کے علاوہ 6 لاکھ روپے سے بھی محروم کردیا گیا تھا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ اکتوبر 2020 میں بھی پیش آیا تھا جس میں ایک اداکارہ نے پولیس اہلکار پر ڈانس پارٹی پر بلانے کے بہانے ہوٹل میں مدعو کرنے کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کا الزام لگایا تھا۔






