ای سی پی نے منحرف ایم این ایز کے خلاف پی ٹی آئی کا ریفرنس خارج کردیا

الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنسز کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی مزید ریکارڈ دینے کے استدعا مسترد کر دی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف نااہلی سے متعلق دائر ریفرنس خارج کر دیا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے 20 منحرف اراکین کے خلاف دائر ریفرنس پر فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا۔

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان کی جانب سے گوہر خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ ان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف جاری شوکاز نوٹس کے جواب میں موکل نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار نہیں کی اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی چھوڑی۔

یہ بھی پڑھیے

غیرقانونی بھرتی کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیئرمین پی اے آر سی کو نوٹس جاری

ہوسکتا ہے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے انتخابات کروا دیں، خواجہ آصف

پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، نور عالم خان اب بھی پی ٹی آئی کے رکن ہیں۔

وکیل گوہر خان نے کہا کہ ان کے موکل نے پارٹی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ووٹ نہیں دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی نے تسلیم کیا نور عالم ان کا رکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ نور عالم نے پارٹی کی ہدایت پر تین اپریل کو پی ٹی آئی کے اجلاس میں شرکت کی جبکہ اس دوران نور عالم خان کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے دریافت کیا گیا کہ کیا نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر ان کے وکیل گوہر خان نے کہا کہ ان کے موکل پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ نہیں ڈالا۔

سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا جس میں الیکشن کمیشن ارکان نے متفقہ فیصلہ دیا کہ منحرف ارکان پر 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔

الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین محمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو ،سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری،عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان ،رمیش کمار، عامر لیاقت، عاصم نذیر، نواب شیر وسیر اور افضل ڈھانڈلہ سے متعلق ریفرنس پر فیصلہ سنایا۔

اس سے قبل سماعت کے موقع پر الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنسز کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی مزید ریکارڈ دینے کے استدعا مسترد کر دی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل فیصل چودھری نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے کیونکہ ان کی نظر میں یہ کیس متنازعہ ہوچکا ہے۔

متعلقہ تحاریر